وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا
مرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھا
#whatsApp
سفر میں شام ہو جاتی تو دل میں شمعیں جل اٹھتیں
لہو میں پھول کھل جاتے جہاں غنچہ چٹکتا تھا
کبھی میں سرو کی صورت نظر آتا تھا یاروں کو
کبھی غنچے کی صورت اپنے ہی دل میں دھڑکتا تھا
خدا جانے میں اس کے ساتھ رہتا تھا کہ آئینہ
مرے پردے میں اپنے آپ کو حیرت سے تکتا تھا
خدا جانے وہ کیسا آدمی تھا جس کے ماتھے پر
کوئی بندیا لگاتا تھا تو اک جگنو چمکتا تھا
کبھی رہتا تھا اس کے ساتھ میں اس کے گریباں میں
کبھی فرقت میں اپنے آئنے پر سر پٹکتا تھا
اندھیری رات جب ساون میں آتی تھی تو اک بلبل
خدا جانے کہاں سے آ کے میرے گھر چہکتا تھا
(قمر جمیل)
مرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھا
سفر میں شام ہو جاتی تو دل میں شمعیں جل اٹھتیں
لہو میں پھول کھل جاتے جہاں غنچہ چٹکتا تھا
کبھی میں سرو کی صورت نظر آتا تھا یاروں کو
کبھی غنچے کی صورت اپنے ہی دل میں دھڑکتا تھا
خدا جانے میں اس کے ساتھ رہتا تھا کہ آئینہ
مرے پردے میں اپنے آپ کو حیرت سے تکتا تھا
خدا جانے وہ کیسا آدمی تھا جس کے ماتھے پر
کوئی بندیا لگاتا تھا تو اک جگنو چمکتا تھا
کبھی رہتا تھا اس کے ساتھ میں اس کے گریباں میں
کبھی فرقت میں اپنے آئنے پر سر پٹکتا تھا
اندھیری رات جب ساون میں آتی تھی تو اک بلبل
خدا جانے کہاں سے آ کے میرے گھر چہکتا تھا
(قمر جمیل)

0 Comments